اہم نکات:
- گرین الیکٹرک بس کے عملے پر تشدد کرنے والے تین ملزم گرفتار، ترجمان فیصل آباد پولیس
- واقعہ 3 نومبر کو سمندری روڈ پر کرایے کے تنازع پر پیش آیا، ایف آئی آر
- ملزمان نے عملے کی وردی پھاڑی اور بس کی پی او ایس ڈیوائس چھین لی
- تھانہ ڈی ٹائپ کالونی میں مقدمہ نمبر 898/26 دفعہ 382، 341، 506 اور 34 کے تحت درج
- شہریوں پر تشدد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، سی پی او فیصل آباد
فیصل آباد: گرین الیکٹرک بس کے عملے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے تین ملزم گرفتار کر لیے گئے۔
ترجمان فیصل آباد پولیس کے مطابق، گرفتار ملزمان کاشان، ارسلان اور افتخار نے بس کے آر او حمزہ افتخار اور ناصر علی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
ہینڈ آؤٹ کے مطابق، ملزمان نے وردی پھاڑ دی اور بس کی ڈیوائسز بھی چھین لی تھیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ ڈی ٹائپ کالونی امتیاز علی نے ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، تھانہ ڈی ٹائپ کالونی میں مقدمہ نمبر 898/26 دفعہ 382، 341، 506 اور 34 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ واقعہ 3 نومبر کو دن تقریباً سوا گیارہ بجے سمندری روڈ پر عبداللہ پل کے قریب پیش آیا، جہاں ملزمان نے سرکاری گرین الیکٹرک بس روک کر ناصر علی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
استغاثے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے گالم گلوچ کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ ملزمان دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔
ایف آئی آر میں مقدمے کے چار ملزمان کاشان، ارسلان، اویس اور تیمور نامزد ہیں اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔ عملے نے 15 پر کال کی تھی اور مقدمہ اسی دن مدعی کی تحریری درخواست پر درج کیا گیا۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 382 ضرر پہنچانے یا روکنے کی تیاری کے بعد کی گئی چوری، دفعہ 341 ناجائز روک اور دفعہ 506 مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہے۔
سی پی او فیصل آباد کے مطابق، شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون شکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
Author Profile

Latest Entries
فیصل آبادنومبر 7, 2026چک جھمرہ: کیمیکل فیکٹری کے ڈرموں میں آگ، ریسکیو 1122 نے قابو پا لیا
تعلیمنومبر 7, 2026فیصل آباد: سابق طالب علم نے طلبہ کو زندگی کا فلسفہ سمجھایا
پاکستاننومبر 7, 2026لاہور: کرپشن کے خاتمے کے لیے باڈی کیمز اور سی سی ٹی وی نگرانی
پاکستاننومبر 7, 2026لاہور: جرمن شہری نے سالوں کی دھمکیوں پر ڈی آئی جی سے تحفظ مانگ لیا








