اہم نکات:
- وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے جڑانوالہ کے چک نمبر 125 جی بی میں کسان دن پر کاشتکاروں کو جدید طریقہ کاشت اپنانے کی اپیل کی
- 10 روزہ آگاہی مہم میں زرعی یونیورسٹی کے 3,200 سے زائد طلبہ نے پنجاب کے 6 ڈویژنز کے دیہاتوں میں کسانوں کی رہنمائی کی
- کاشتکاروں کو گندم کی بوائی یکم سے 20 نومبر تک مکمل کرنے اور چھٹہ کی بجائے ڈرل و سپر سیڈر استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے کسان دن پر کاشتکاروں کو جدید طریقہ کاشت اپنانے کی اپیل کی۔
یونیورسٹی کے ہینڈ آؤٹ کے مطابق یہ تقریب چک نمبر 125 جی بی، جڑانوالہ میں ٹرینڈ زرعی فارم پر منعقد ہوئی اور اس سے گندم کی پیداوار میں اضافے کی 10 روزہ آگاہی مہم کا اختتام ہوا۔
یہ مہم زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور محکمہ زراعت توسیع پنجاب کے اشتراک سے 30 اکتوبر سے 8 نومبر تک جاری رہی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ کاشتکار ملکی زرعی ترقی اور غذائی خودکفالت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنسی علم اور جدید ٹیکنالوجی سے فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔
انھوں نے یاد دلایا کہ 60 کی دہائی میں فی ایکڑ صرف 10 سے 12 من گندم حاصل ہوتی تھی، جبکہ ترقی پسند کاشتکار اب 80 من فی ایکڑ سے زائد پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر شہباز اختر نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ یکم سے 20 نومبر کے دوران گندم کی کاشت لازمی مکمل کریں۔
ڈاکٹر شہباز اختر نے مزید کہا کہ روایتی چھٹہ طریقہ کے بجائے ڈرل اور سپر سیڈر سے قطاروں میں کاشت کو ترجیح دیں تاکہ بیج کی بچت کے ساتھ پیداوار میں اضافہ ہو۔
انھوں نے بتایا کہ کسان کارڈ، سپر سیڈرز اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی کے ساتھ گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔
ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ مہم کے دوران زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے 3,200 سے زائد طلبہ نے پنجاب کے 6 ڈویژنز میں دیہاتوں کا رخ کیا۔
طلبہ نے ماہرین زراعت کی زیر نگرانی فیصل آباد، لاہور، ساہیوال، سرگودھا، گوجرانوالہ اور گجرات کے دیہاتوں میں کسانوں کو جدید زرعی طریقوں سے آگاہ کیا۔
مقررین نے بتایا کہ مہم کے دوران 400 عمومی اجتماعات، 200 بڑے کسان اجتماعات اور 500 دیہی رابطہ نشستوں کے ذریعے کسانوں کی رہنمائی کی گئی۔
ترقی پسند کاشتکار ضیا علمدار حسین نے کہا کہ جدید زرعی سفارشات پر عمل سے کاشتکار فی ایکڑ پیداوار بڑھا سکتے ہیں اور پیداواری لاگت کم کر سکتے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ ضیاء اللہ گوندل نے کہا کہ مقامی انتظامیہ حکومت پنجاب کی تمام سہولیات کسانوں تک شفاف اور بروقت پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد نوید نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا کہ گھریلو بیج استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کر کے مناسب ادویات سے ٹریٹ کریں۔
انھوں نے متوازن کھادوں کے استعمال پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ضروری غذائی اجزا کی کمی سے فصل کی حتمی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد خالد محمود اور راشد علی نے کہا کہ بروقت کاشت، تصدیق شدہ بیج، متوازن کھاد، موثر پانی کے انتظام اور جدید مشینری گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔
زرعی شماری 2024 کے مطابق گندم پاکستان کی سب سے بڑی فصل ہے جو ملک کے 43.3 فیصد رقبے پر کاشت ہوتی ہے، جبکہ پنجاب ملک کی گندم کا 57 فیصد پیدا کرتا ہے۔
Author Profile

Latest Entries
پاکستاننومبر 8, 2026فیصل آباد: لیوی وصولی 1567 ارب، عوام کو ریلیف صرف 26 ارب
تعلیمنومبر 8, 2026جڑانوالہ: گندم کی بوائی یکم سے 20 نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت
پاکستاننومبر 8, 2026ٹوبہ ٹیک سنگھ: گرجا گھروں کے باہر ناکے، ہر آنے والے کی مکمل چیکنگ
فیصل آبادنومبر 8, 2026فیصل آباد: ٹاول فیکٹری کے سلائی یونٹ میں آگ، ریسکیو 1122 نے قابو پا لیا








