0

فیصل آباد: دل کے مریض ایک ہی مشین کے رحم و کرم پر

مطالعے کا وقت: 1 منٹ

اہم نکات:

  • فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تھیلیم اسکین مشین تقریباً دو سال سے بند، دی نیشن کی رپورٹ
  • یہ ٹیسٹ دل میں خون کی فراہمی، رکاوٹوں اور ہارٹ اٹیک کے نقصان کا جائزہ دیتا ہے
  • دی نیشن کے مطابق شہر کی پرائیویٹ لیبارٹریوں میں بھی یہ ٹیسٹ دستیاب نہیں
  • رپورٹ کے مطابق مریضوں کا سارا بوجھ پینم ہسپتال کی واحد مشین پر ہے
  • ایم ایس ڈاکٹر ندیم اختر نے دی نیشن کو بتایا کہ مشین خراب نہیں، مدت مکمل کر چکی ہے

فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تھیلیم اسکین مشین تقریباً دو سال سے بند پڑی ہے۔

دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق اس سہولت کی بندش سے امراضِ قلب کے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ ادارہ پنجاب کے دوسرے بڑے شہر کا بڑا تدریسی ہسپتال ہے۔

تھیلیم اسکین سے دل کے مختلف حصوں، شریانوں میں خون کی فراہمی اور ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے ہارٹ اٹیک کے بعد دل کے پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

بائی پاس اور انجیوپلاسٹی کے بعد بھی مریض کے دل کی کارکردگی اسی ٹیسٹ سے جانچی جاتی ہے اور اس کے نتائج علاج کے فیصلے میں مدد دیتے ہیں۔

دی نیشن کے مطابق فیصل آباد کی پرائیویٹ لیبارٹریوں میں بھی یہ ٹیسٹ دستیاب نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت یہ ٹیسٹ صرف پینم ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔ مریضوں کا سارا بوجھ اسی ایک مشین پر پڑ چکا ہے۔

فیصل آباد اور گرد و نواح کے مریض اسی سہولت کے محتاج ہیں۔

دی نیشن کے مطابق ایم ایس فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈاکٹر ندیم اختر کا کہنا تھا کہ مشین خراب نہیں ہوئی بلکہ اپنی مدت مکمل کر چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب حکومت ادارے کو نئی مشین فراہم کرے گی۔

Read in English

Author Profile

Staff Report
Staff Report
Emotion Map:
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
↑