اہم نکات:
- اس سال پنجاب بھر میں 3,141 منظم گینگز ختم کیے گئے اور ان کے 11,704 کارندے گرفتار ہوئے۔
- گرفتار افراد سے 2 ارب 86 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مسروقہ مال برآمد ہوا۔
- صرف لاہور میں 1,999 گینگز کے 4,538 کارندے پکڑے گئے اور 54 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زیادہ کا مال برآمد ہوا۔
- پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو گاڑیوں کی چوری کی روک تھام پر عالمی ایوارڈ ملا۔
- آئی جی پنجاب نے پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے ان کے مسائل پر موقع پر احکامات جاری کیے۔
لاہور: اس سال پنجاب بھر میں پولیس نے منظم جرائم کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 3,141 گینگز ختم کر دیے ہیں اور ان کے 11,704 کارندے گرفتار کر لیے ہیں۔
پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ہینڈ آؤٹ کے مطابق گرفتار کارندوں سے 2 ارب 86 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مسروقہ مال بھی برآمد کیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں لاہور سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں کی گئیں۔
صرف لاہور میں کتنی کارروائی ہوئی؟
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں اس سال 1,999 گینگز کے 4,538 کارندے گرفتار کیے گئے۔ لاہور سے گرفتار افراد سے 54 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کا مسروقہ مال برآمد ہوا۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے ہدایت کی ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں مزید تیز رفتاری سے جاری رکھی جائیں۔
سیف سٹیز اتھارٹی کو عالمی ایوارڈ کیوں ملا؟
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو گاڑیوں کی چوری اور اس سے جڑے جرائم کی روک تھام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر عالمی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ پولیس سربراہوں کی عالمی تنظیم آئی اے سی پی کی طرف سے «لیڈرشپ ان دی پریوینشن آف وہیکل کرائمز ایوارڈ 2026» ہے۔
اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد احسن یونس نے امریکا کی ریاست فلوریڈا میں ہونے والی عالمی پولیس کانفرنس میں یہ ایوارڈ وصول کیا۔ بعد میں انھوں نے سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی پنجاب عبدالکریم سے ملاقات کی، جس پر آئی جی نے انھیں مبارکباد دی۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ یہ عالمی ایوارڈ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے «محفوظ پنجاب وژن» کی وجہ سے ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم کی روک تھام اور عوامی خدمت کے شعبے میں عالمی سطح کی پذیرائی پنجاب پولیس کے لیے باعث فخر ہے اور سیف سٹیز کی کامیابی باقی یونٹس کے لیے مثال ہے۔
جرائم کی روک تھام اور عوامی خدمت کے شعبے میں عالمی سطح کی پذیرائی پنجاب پولیس کے لیے باعث فخر ہے اور سیف سٹیز کی کامیابی باقی یونٹس کے لیے مثال ہے۔
محمد احسن یونس نے کہا کہ اتھارٹی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی حفاظتی نظام اور ڈیجیٹل نگرانی کے ماڈل کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اتھارٹی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے عالمی معیار کی خدمات دے رہی ہے۔
پولیس ملازمین کی ملاقات میں کیا ہوا؟
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سنٹرل پولیس آفس میں پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور موقع پر ریلیف کے احکامات جاری کیے۔
سب انسپکٹر عثمان الرحمٰن اور سب انسپکٹر محمد ارشد کی ترقی کی درخواستوں پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب کو ہدایت کی گئی کہ ان کے کیس زیر غور لائے جائیں۔ مرحوم ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد کے بیٹے کی بھرتی کی درخواست پر ڈی آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس کو ہدایات جاری کی گئیں۔
ڈی ایس پی لیگل شہزاد حمید کی ٹرانسفر کی درخواست پر ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز کو ریلیف دینے کی ہدایت کی گئی۔ شہید کانسٹیبل عبدالرزاق کے بیٹے کی درخواست پر اس کے والد کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس کو ہدایات دی گئیں۔
سینئر کلرک منیب شجاع کی طبی مالی امداد اور ڈی ایس پی قدیر بشیر کی اہلیہ کے علاج کے لیے مالی امداد کی درخواستوں پر بھی ڈی آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس کو ریلیف کی ہدایت کی گئی۔ ترجمان کے مطابق نظم و ضبط، انتظامی امور، ترقی اور فلاح سے متعلق دیگر درخواستوں پر بھی احکامات جاری کیے گئے۔
سات پولیس افسران کے تقرر و تبادلے
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سات پولیس افسران کے تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
اے آئی جی انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی محمد عاصم کو ڈی پی او چکوال تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈی پی او چکوال کاشف ذوالفقار کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایس پی سروے اسپیشل برانچ شاہد احمد خان کو ڈی پی او بھکر تعینات کیا گیا ہے، اور ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق اعوان کو ایس پی سروے اسپیشل برانچ پنجاب لگا دیا گیا ہے۔
لاہور میں ایڈیشنل ایس پی سی آر او رانا زاہد حسین کو ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن علامہ اقبال ٹاؤن تعینات کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن علامہ اقبال ٹاؤن حسن فاروق کو ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن صدر ڈویژن لگا دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی لیگل لاہور غلام حسین چوہان کو اے آئی جی لیگل سینٹرل پولیس آفس تعینات کر دیا گیا ہے، پنجاب پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ہینڈ آؤٹ کے مطابق۔
Author Profile

Latest Entries
پاکستاننومبر 2, 2026پنجاب بھر میں 3,141 گینگز ختم، 11,704 کارندے گرفتار
فیصل آبادنومبر 2, 2026کمال آباد دوہرے قتل کا ملزم لیہ سے گرفتار

