پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری، جسے ہر جگہ پی ایس ای آر کہا جاتا ہے، صوبائی حکومت کا گھرانوں کا ڈیٹا بیس ہے۔ یہ خود کوئی رقم نہیں دیتا۔
اس کے پاس آپ کے خاندان کا ریکارڈ ہوتا ہے: گھر میں کون کون رہتا ہے، گھرانے کی آمدن کتنی ہے اور اس کے پاس کیا کچھ ہے۔
پنجاب کی تقریباً ہر فلاحی اسکیم اب اسی ریکارڈ سے طے کرتی ہے کہ امداد کسے ملے گی۔
یہی وہ نکتہ ہے جو اکثر خاندانوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ کوئی اسکیم عام طور پر آپ سے نیا ثبوت نہیں مانگتی؛ وہ رجسٹری میں پہلے سے موجود ریکارڈ کو اپنے غربت اسکور کی حد سے جانچتی ہے۔
اگر آپ کا گھرانہ درج ہی نہیں تو آپ اس جانچ میں شامل ہی نہیں ہوتے، چاہے آپ کتنے ہی مستحق ہوں اور بعد میں کسی بھی دفتر کے چکر لگا لیں۔
اس لیے رجسٹریشن خود کوئی اسکیم نہیں، تمام اسکیموں کا دروازہ ہے، اور یہ بالکل مفت ہے۔
رجسٹری ہر گھرانے کا ایک غربت اسکور بناتی ہے۔ یہ اسکور رجسٹریشن کے وقت دی گئی معلومات سے بنتا ہے: آمدن، خاندان کے افراد کی تعداد، رہائش اور اثاثے۔
پھر ہر اسکیم اس اسکور پر اپنی حد مقرر کرتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی رجسٹریشن سے کوئی خاندان ایک اسکیم کا اہل بھی ہو سکتا ہے اور دوسری کا نہیں بھی۔
اصل بات یہ ہے کہ رجسٹریشن درست ہو، صرف ہو جانا کافی نہیں۔
رجسٹریشن سے کیا کھلتا ہے
جب آپ کا گھرانہ رجسٹری میں آ جائے تو اسکیموں کے محکمے جب بھی کوئی پروگرام کھلتا ہے، آپ کے ریکارڈ کو اپنے غربت اسکور کی حد سے جانچتے ہیں۔ پی ایس ای آر کے ڈیٹا پر چلنے والی اہم اسکیمیں یہ ہیں:
راشن کارڈ
کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ہر مہینے راشن سبسڈی، جو رجسٹری کے غربت اسکور پر اہل ٹھہرنے والے گھرانوں کو ملتی ہے۔
مکمل رہنمائی زیر تیاری ہےہمت کارڈ
معذور افراد کے لیے ہر تین ماہ بعد نقد امداد، جو درج، تصدیق شدہ اور کام کے اہل نہ قرار دیے گئے افراد کو ملتی ہے۔
مکمل رہنمائی پڑھیںنگہبان رمضان پیکج
رمضان میں مستحق خاندانوں کے لیے نقد امداد۔ اس کے لیے کوئی درخواست نہیں دیتا؛ خاندان خودکار طور پر پی ایس ای آر کے ڈیٹا سے منتخب ہوتے ہیں۔
مکمل رہنمائی زیر تیاری ہےمریم کو بتائیں
اچانک مشکل میں پھنسے خاندان کے لیے ہنگامی امداد۔ پی ایس ای آر میں درج خاندانوں کی کارروائی تیز ہوتی ہے کیونکہ ان کا ریکارڈ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
مکمل رہنمائی زیر تیاری ہےاپنی چھت اپنا گھر
رہائشی قرض کے پروگرام میں درخواست گزاروں کے انتخاب کے لیے پی ایس ای آر اور این ایس ای آر کا غربت ڈیٹا استعمال ہوتا ہے، اس لیے درست ریکارڈ آپ کے حق میں جاتا ہے۔
مکمل رہنمائی پڑھیںنئی اسکیمیں آتی رہیں گی
پنجاب کی ہر نئی فلاحی اسکیم اسی رجسٹری پر بن رہی ہے۔ ایک بار درست رجسٹریشن آپ کے خاندان کو ان سب کے لیے قطار میں رکھتی ہے۔
کون رجسٹر کر سکتا ہے
پنجاب کا ہر گھرانہ رجسٹر کر سکتا ہے، امیر ہو یا غریب۔ رجسٹریشن خود کوئی امداد نہیں اور یہ کسی کو انکار نہیں کرتی؛ یہ صرف آپ کے گھرانے کو سروے میں درج کرتی ہے۔
بعد میں کسی ادائیگی کے اہل ہونا اس غربت اسکور پر منحصر ہے جو رجسٹری آپ کی آمدن، خاندان کے افراد اور اثاثوں سے بناتی ہے، اور ہر اسکیم اس پر اپنی حد مقرر کرتی ہے۔
اس لیے رجسٹریشن کسی ادائیگی کی ضمانت نہیں، لیکن اتنی بات طے ہے کہ درج نہ ہونے والا گھرانہ غور میں ہی نہیں آتا۔
رجسٹریشن کے تین مفت راستے
آن لائن، گھر بیٹھے
سرکاری پورٹل کھولیں، اپنے شناختی کارڈ اور موبائل نمبر سے اکاؤنٹ بنائیں اور اپنے گھرانے کی تفصیل جمع کرائیں۔ پورٹل کا پتہ اس صفحے کے آخر میں دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن مراکز
پنجاب بھر میں 5,000 سے زیادہ پی ایس ای آر رجسٹریشن مراکز کام کر رہے ہیں اور ای خدمت مراکز کے کاؤنٹر بھی یہ کام کرتے ہیں۔ وہاں کا عملہ آپ کے گھرانے کی تفصیل خود درج کر دیتا ہے۔
سروے ٹیمیں
سرکاری سروے ٹیمیں کئی علاقوں میں گھر گھر بھی جا رہی ہیں۔ اگر کوئی ٹیم آپ کی گلی میں آئے تو یہی دستاویزات اپنے دروازے پر ٹیم کو دی جا سکتی ہیں۔
دستاویزات تیار رکھیں
- گھر کے سربراہ کا شناختی کارڈ۔
- خاندان کے تمام بالغ افراد کے شناختی کارڈ۔
- بچوں کے ب فارم۔
- ایک موبائل نمبر، اکاؤنٹ اور آپ کے ریکارڈ کے بارے میں پیغامات کے لیے۔
جو بھی راستہ اختیار کریں، شروع کرنے سے پہلے پورے خاندان کی دستاویزات اکٹھی رکھ لیں۔
زیادہ تر ناکام یا لٹکی ہوئی رجسٹریشنوں کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ کسی فرد کا شناختی کارڈ ساتھ نہیں تھا یا کوئی فرد فارم میں درج ہونے سے رہ گیا۔
ریکارڈ میں رہ جانے والا فرد بعد میں کسی اسکیم میں بھی رہ سکتا ہے۔
اپنی رجسٹریشن کیسے جانچیں
بہت سے گھرانے سروے ٹیموں کے ہاتھوں درج ہو چکے ہیں اور انہیں اس کا علم ہی نہیں۔ دوبارہ رجسٹریشن سے پہلے پہلے جانچ لیں۔
سرکاری پورٹل پر اپنے شناختی کارڈ سے سائن ان کر کے دیکھیں کہ آپ کے گھرانے کا ریکارڈ موجود ہے یا نہیں، یا صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر 8070 پر ایس ایم ایس کر دیں۔
اگر ریکارڈ موجود ہے تو دوسری بار رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ کسی مشکل کی صورت میں پی ایس ای آر کی ہیلپ لائنیں 0800-02345 اور 1221 ہیں۔
چار غلطیاں جو خاندانوں کو مہنگی پڑتی ہیں
ایجنٹ کو رقم دینا۔ رجسٹریشن ہر راستے سے مفت ہے: آن لائن بھی، مرکز پر بھی اور آپ کے دروازے پر بھی۔
فیس مانگنے والا اس عمل کا حصہ نہیں۔
دوبارہ رجسٹریشن۔ ایک گھرانے کو ایک ہی ریکارڈ چاہیے۔
پہلے 8070 پر جانچ لیں؛ دوسرا ریکارڈ فائدے کے بجائے الجھن پیدا کرتا ہے۔
آمدن یا اثاثے چھپانا۔ غربت اسکور آپ کی بتائی ہوئی معلومات سے بنتا ہے۔
غلط معلومات آپ کا اسکور کسی بھی طرف لے جا سکتی ہے اور بعد میں ریکارڈ سے اس کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے۔
خاندان کے افراد چھوڑ دینا۔ اسکیمیں گھرانے کو اسی گنتی سے جانچتی ہیں جو ریکارڈ میں ہو۔
فارم میں رہ جانے والا فرد کسی اسکیم کے کھلنے پر گنتی سے باہر رہ سکتا ہے۔
فیصل آباد کے قارئین کے لیے
فیصل آباد کے گھرانے ای خدمت مرکز اور شہر اور اس کی تحصیلوں میں قائم پی ایس ای آر رجسٹریشن مراکز سے رجسٹر کر سکتے ہیں۔
جانے سے پہلے خاندان کے تمام شناختی کارڈ اکٹھے رکھ لیں اور ایک ہی بار میں پورے گھرانے کا ریکارڈ مکمل کرائیں۔
رجسٹریشن کے لیے کسی کو رقم ہرگز نہ دیں: یہ عمل ہر راستے سے مفت ہے اور فیس مانگنے والا اس کا حصہ نہیں۔
عام سوالات
پی ایس ای آر رجسٹریشن — طریقہ جانیں
پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری میں اندراج بالکل مفت ہے اور اس کی کوئی آخری تاریخ نہیں۔ آپ جو کرنا چاہتے ہیں منتخب کریں، یہ رہنمائی آپ کو درست طریقہ، تیار رکھنے کی دستاویزات اور رابطے کی تفصیل دکھا دے گی۔
نوٹ: یہ صفحہ گرینڈ لائنز نے صرف عوامی رہنمائی کے لیے شائع کیا ہے۔ یہاں دی گئی معلومات میں کسی غلطی یا کمی کی ذمہ داری گرینڈ لائنز قبول نہیں کرتا اور اس معلومات پر بھروسا کر کے کی گئی کسی درخواست کے بارے میں کوئی قانونی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی۔ تمام اصولوں کے بارے میں اصل اور حتمی ماخذ سرکاری پورٹل ہے — رجسٹریشن سے پہلے ہر بات pser.punjab.gov.pk پر جا کر ضرور جانچ لیں۔