اپنی چھت اپنا گھر پنجاب حکومت کا بے سود رہائشی قرض ہے۔ یہ اس عام خاندان کے لیے بنایا گیا ہے جس کے پاس چھوٹا سا پلاٹ ہو، برسوں سے اسی کے نام ہو، مگر اس پر گھر بنانے کے پیسے نہ ہوں۔
ایسا خاندان Rs 15 لاکھ تک بغیر کسی سود کے قرض لے سکتا ہے اور سات سال میں تقریباً Rs 14,000 ماہانہ قسط میں واپس کر سکتا ہے۔
یہ پروگرام اگست 2024 سے چل رہا ہے اور درخواستیں مسلسل جاری ہیں، اس لیے کسی آخری تاریخ کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔ اسے پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (پھاٹا) چلاتی ہے۔
درخواستیں صرف آن لائن دی جاتی ہیں اور منظور شدہ قرض بینک آف پنجاب کے ذریعے دیا جاتا ہے۔
چونکہ اس قرض پر سود نہیں، اس لیے واپس صرف اتنی ہی رقم ہوتی ہے جتنی لی گئی تھی۔
یہی ایک بات اس پروگرام کو بازار کے ہر بینک قرض سے الگ کرتی ہے، جہاں رہائشی قرض کا سود برسوں میں خاموشی سے ایک اور گھر کی قیمت جوڑ دیتا ہے۔
قرض ایک نظر میں
| تفصیل | رقم / حد |
|---|---|
| قرض کی رقم | Rs 15 لاکھ تک |
| سود | بالکل نہیں — مکمل بے سود |
| ماہانہ قسط | تقریباً Rs 14,000 |
| واپسی کی مدت | سات سال (موجودہ پورٹل رہنمائی کے مطابق) |
| پلاٹ کی حد | شہری علاقے میں 5 مرلہ تک، دیہی علاقے میں 10 مرلہ تک |
| نگران ادارہ | پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (پھاٹا) |
| ہیلپ لائن | 0800-09100 |
کون درخواست دے سکتا ہے
- آپ کا پنجاب کا رہائشی ہونا ضروری ہے۔
- آپ پلاٹ کے واحد مالک ہوں — پلاٹ آپ کے اپنے نام ہو۔
- پلاٹ سائز کی حد کے اندر ہو: شہری علاقے میں پانچ مرلہ سے زیادہ نہ ہو اور دیہی علاقے میں دس مرلہ سے زیادہ نہ ہو۔
- آپ کے خاندان کے پاس پہلے سے مکمل گھر نہ ہو۔
- یہ اسکیم کم آمدن والے گھرانوں کے لیے ہے اور انتخاب میں پی ایس ای آر اور این ایس ای آر کے غربت ڈیٹا کو استعمال کیا جاتا ہے۔
درخواست سے پہلے پلاٹ کی شرائط دو بار پڑھ لیں۔ اس پروگرام میں زیادہ تر انکار آمدن کی وجہ سے نہیں ہوتے؛ وجہ مشترکہ ملکیت والا پلاٹ، حد سے تھوڑا بڑا پلاٹ یا خاندان کے نام پہلے سے بنا ہوا گھر ہوتا ہے۔
درخواست کا طریقہ — صرف آن لائن
اپنا اکاؤنٹ بنائیں
سرکاری پورٹل کھولیں (اس کا پتہ اس صفحے کے آخر میں دیا گیا ہے) اور اپنے شناختی کارڈ اور موبائل نمبر سے اکاؤنٹ بنائیں۔
فارم بھر کر جمع کرائیں
اپنی ذاتی تفصیل اور پلاٹ کی تفصیل درج کریں، ایک بار جانچ لیں اور فارم جمع کرا دیں۔ اس مرحلے میں نہ کوئی فیس ہے اور نہ کوئی ایجنٹ۔
تصدیق، پھر ادائیگی
تصدیق میں آپ کا شناختی کارڈ اور پلاٹ کی ملکیت کا ریکارڈ جانچا جاتا ہے۔ منظور شدہ قرض بینک آف پنجاب کے ذریعے دیا جاتا ہے۔
دستاویزات تیار رکھیں
- آپ کا شناختی کارڈ۔
- پلاٹ کی ملکیت کا ریکارڈ (فرد)، جس میں پلاٹ آپ کے نام ہو۔
- ایک موبائل نمبر، اکاؤنٹ اور آپ کی درخواست کے بارے میں پیغامات کے لیے۔
تصدیق میں شناختی کارڈ اور فرد دونوں جانچے جاتے ہیں، اس لیے پرانا یا نام سے نہ ملتا ریکارڈ تاخیر کی سب سے عام وجہ ہے۔
اگر آپ کے پلاٹ کے ریکارڈ میں نام ابھی درست درج نہیں تو درخواست سے پہلے محکمہ مال سے اس کی اصلاح کرا لیں، بعد میں نہیں۔
دو باتیں جو آپ کے حق میں جاتی ہیں
پی ایس ای آر میں درج ہوں
انتخاب میں پی ایس ای آر اور این ایس ای آر کا غربت ڈیٹا استعمال ہوتا ہے۔ اگر آپ کا گھرانہ پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری میں درج نہیں تو آپ کا ریکارڈ آپ کے حق میں بول ہی نہیں سکتا۔
درخواست سے پہلے ایس ایم ایس سے اپنی رجسٹریشن جانچ لیں۔
مکمل رہنمائی پڑھیںچھت کمزور ہے؟ محفوظ چھت
اگر آپ کے پاس گھر پہلے سے ہے مگر اس کی چھت خطرناک ہے تو اسی پورٹل پر اس کا ساتھی پروگرام بھی چل رہا ہے۔
یہ پروگرام چھت کی مرمت کے لیے Rs 5 لاکھ تک اور اضافی منزل کے لیے Rs 10 لاکھ تک بے سود قرض دیتا ہے۔
مکمل رہنمائی پڑھیںپروگرام اب تک
اس پروگرام کو بہت بڑا ردعمل ملا ہے۔ پہلے اٹھارہ مہینوں میں رجسٹریشن 18 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ گئیں اور Rs 164 ارب سے زیادہ رقم دی گئی۔
اکتوبر 2026 میں پنجاب کابینہ نے مزید 40,000 قرضوں کے لیے Rs 60 ارب کی منظوری دی۔ گرینڈ لائنز نے اپنی تازہ کوریج میں اس پروگرام کے تحت 128,718 گھر مکمل ہونے کی خبر دی تھی۔
اس اسکیم کو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کا اسکرول آف آنر بھی ملا ہے۔
چار غلطیاں جو درخواست گزاروں کو مہنگی پڑتی ہیں
ایجنٹ کو رقم دینا۔ درخواست مفت ہے اور آن لائن دی جاتی ہے۔
انتخاب میں ایجنٹوں کا کوئی کردار نہیں اور ایجنٹ کو دی گئی رقم کچھ نہیں خریدتی۔
ایسے پلاٹ پر درخواست جو صرف آپ کا نہ ہو۔ مشترکہ ملکیت تصدیق میں واحد مالک کی شرط پر پوری نہیں اترتی، باقی معاملہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔
مرلہ کی حد کو نظر انداز کرنا۔ شہری پانچ مرلہ اور دیہی دس مرلہ سخت حدود ہیں۔
بڑا پلاٹ مانگنے سے اہل نہیں ہو جاتا۔
خاندان کے پاس مکمل گھر ہوتے ہوئے درخواست۔ یہی ایک بات درخواست ختم کر دیتی ہے اور اس کی جانچ ریکارڈ سے ہوتی ہے۔
فیصل آباد کے قارئین کے لیے
فیصل آباد ضلع میں بھی یہی اصول ہیں: پلاٹ آپ کے اپنے نام ہو اور مرلہ کی حد کے اندر ہو، وہ پنجاب میں جہاں بھی ہو۔
گھر بیٹھے پورٹل سے درخواست دیں اور فارم بھرنے کے لیے کسی ایجنٹ کو رقم ہرگز نہ دیں، کیونکہ درخواست مفت ہے اور انتخاب میں ایجنٹوں کا کوئی کردار نہیں۔
عام سوالات
اپنی چھت اپنا گھر · بے سود رہائشی قرض
اپنی چھت اپنا گھر — اہلیت جانچیں
پانچ سوالوں کے جواب دیں اور فوراً جان لیں کہ آپ Rs 15 لاکھ تک کے بے سود قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں یا نہیں — قسط تقریباً Rs 14,000 ماہانہ، سات سال میں۔
آپ کا نتیجہ یہاں ظاہر ہوگا
اوپر دیے گئے پانچوں سوالوں کے جواب دیں — نتیجہ جواب دیتے ہی خود بخود یہاں آ جائے گا، کسی بٹن کی ضرورت نہیں۔
جواب ہو گئے: 0 از 5 سوالات
یہ جانچ اس صفحے پر دی گئی اہلیت کی شرائط کے مطابق ہے۔ حتمی اہلیت کا فیصلہ حکومت کرتی ہے، آپ کے شناختی کارڈ، پلاٹ کے ریکارڈ اور پی ایس ای آر و این ایس ای آر کے غربت ڈیٹا کی تصدیق کے بعد۔
تازہ پیش رفت
- 4 نومبر 2026: اپنی چھت اپنا گھر کے تحت قرضے سوا دو لاکھ سے بڑھ گئے ہیں اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے ہدف کی تکمیل پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے حسن ابدال میں ریٹائرڈ حوالدار اعتبار شاہ کے اس گھر کا علامتی افتتاح کیا جو اسی سکیم کے تحت بنا۔ اعتبار شاہ نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس پلاٹ تھا اور وہ غیبی امداد کے منتظر تھے؛ سکیم کے تحت ملنے والے 15 لاکھ روپے سے گھر بن گیا۔ وزیراعلیٰ نے خاندان کو تحائف پیش کیے اور فرمائش کر کے ان کے گھر کا سادہ کھانا بھنڈی اور دال کھایا، جس کی لذت کو انہوں نے سراہا۔ شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتبار شاہ اور اہل خانہ جذباتی ہو گئے۔
نوٹ: یہ صفحہ گرینڈ لائنز نے صرف عوامی رہنمائی کے لیے شائع کیا ہے۔ یہاں دی گئی معلومات میں کسی غلطی یا کمی کی ذمہ داری گرینڈ لائنز قبول نہیں کرتا اور اس معلومات پر بھروسا کر کے کی گئی کسی درخواست کے بارے میں کوئی قانونی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی۔ تمام اصولوں کے بارے میں اصل اور حتمی ماخذ سرکاری پورٹل ہے — درخواست سے پہلے ہر بات acag.punjab.gov.pk پر جا کر ضرور جانچ لیں۔