0

تین برس میں 29 لاکھ پاکستانی بیرون ملک چلے گئے: جماعت اسلامی کا حکومت پر وار

مطالعے کا وقت: 1 منٹ

اہم نکات:

  • جماعت اسلامی کے ضلعی امیر نے تین برسوں میں 29 لاکھ پاکستانیوں کے بیرون ملک جانے کو حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا۔
  • ان کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے 16 ماہ میں قرضوں میں 13 ہزار 78 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
  • 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ہر پاکستانی 3 لاکھ 2 ہزار روپے کا مقروض ہے۔
  • انہوں نے سودی نظام معیشت اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

فیصل آباد: جماعت اسلامی کے نومنتخب ضلعی امیر میاں طاہر ایوب نے گزشتہ تین برسوں میں 29 لاکھ پاکستانیوں کے بیرون ملک منتقل ہو جانے کو معاشی ترقی کی دعویدار حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول، گیس، کوئلہ اور زراعت سمیت قدرتی دولت سے مالا مال اور ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے عوام پینے کے صاف پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ عوام مٹھی بھر اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے 16 ماہ میں قرضوں میں 13 ہزار 78 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ہر پاکستانی 3 لاکھ 2 ہزار روپے کا مقروض ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے فرمائشی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور ٹیکسوں کی بھرمار کر کے عوام کی زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ چینی، آٹا، دالیں اور گوشت سمیت روزمرہ اشیائے خور و نوش عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کا اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب حکمرانوں اور بیوروکریسی کی مفت خوری اور شاہانہ طرز زندگی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے کرپشن فری اقدامات کرے۔ سودی نظام معیشت اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ، عدل و انصاف کے نظام کا قیام اور کفایت شعاری و سادگی کی پالیسی اپنائی جائے تاکہ عام آدمی سکھ کا سانس لے سکے۔

Read in English

Author Profile

Staff Report
Staff Report
Emotion Map:
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
↑