0

وردی میں بھیک مانگنے والے تین اہلکار گرفتار، حوالات بند

مطالعے کا وقت: 1 منٹ

اہم نکات:

  • ڈیوٹی کے دوران شہری سے کھانے کے پیسے مانگنے والے تین کنسٹیبل گرفتار، حوالات بند
  • مقدمہ تھانہ گارڈن ٹاؤن میں ایف آئی آر نمبر 1837/26 کے تحت درج
  • دفعات: پولیس آرڈر 2002 کی 155-سی اور پنجاب آوارگی آرڈیننس 1958 کی دفعہ 9
  • گرفتار اہلکار: کنسٹیبل فیاض، کنسٹیبل فرحان اور کنسٹیبل احمد مصطفی

لاہور: تین پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران شہری سے کھانے کے پیسے مانگنے پر گرفتار کر لیے گئے۔ تینوں اہلکاروں کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق، منگل کی رات برکت مارکیٹ گارڈن ٹاؤن میں ڈیوٹی پر موجود تین کنسٹیبلان نے ایک شہری کو روک لیا۔ شہری اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے مارکیٹ آیا تھا۔

ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے مطابق، اہلکاروں نے شہری سے پوچھا کہ وہ وہاں کیا کر رہے ہیں۔ کھانے کے لیے آنے کا بتانے پر اہلکاروں نے ان سے کھانے کے پیسے مانگ لیے۔

تھانہ گارڈن ٹاؤن لاہور میں درج ایف آئی آر 1837/26 کی ترمیم شدہ نقل، جس میں شہری کا نام اور پتہ حذف کر دیا گیا ہے
تھانہ گارڈن ٹاؤن لاہور میں درج ایف آئی آر 1837/26 کی ترمیم شدہ نقل، جس میں شہری کا نام اور پتہ حذف کر دیا گیا ہے

ایف آئی آر کے مطابق، مقدمہ پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155-سی اور پنجاب آوارگی آرڈیننس 1958 کی دفعہ 9 کے تحت درج کیا گیا۔ گارڈن ٹاؤن پولیس نے رپورٹ بدھ کی صبح 3 بج کر 55 منٹ پر درج کی۔

ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق، گرفتار اہلکاروں کی شناخت کنسٹیبل فیاض، کنسٹیبل فرحان اور کنسٹیبل احمد مصطفی کے ناموں سے ہوئی۔ تینوں کو حراست میں لے کر مقدمہ انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ شہریوں کی عزت اور پولیس فورس کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔

شہریوں کی عزت اور پولیس فورس کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں

انھوں نے کہا کہ بدعنوانی میں ملوث اہلکار بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وردی کو ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

ہینڈ آؤٹ میں مزید کہا گیا کہ کرپشن اور بدعنوانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور احتساب کا عمل جاری رہے گا۔

نو افسران انسپکٹر بن گئے

ڈی آئی جی آپریشنز دفتر کے مطابق، لاہور پولیس کے نو افسران کو انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ رینک سرمنی میں ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز نے نو افسران کو انسپکٹر رینک کے بیجز لگائے۔

تقریب میں ترقی پانے والے افسران کی فیملیز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ترقی پانے والوں میں محمد افضال، صفدر علی، محمد زاہد، عبدالرحیم، وقاص اسلم، محمد وحید خان، عامر بوٹا، یاسر علی جوئیہ اور نوید اقبال شامل ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے افسران اور ان کی فیملیز کو مبارکباد دی۔ فیصل کامران نے کہا کہ ترقی افسران کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افسران کی کامیابی میں ان کے اہل خانہ کی دعائیں اور تعاون بھی شامل ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ترقی پانے والے افسران مزید محنت اور دیانتداری سے فرائض انجام دیں گے۔

وہیل چیئر پر فریاد سنی گئی

ڈی آئی جی آپریشنز دفتر کے مطابق، ایک بزرگ شہری وہیل چیئر پر ڈی آئی جی آپریشنز کی کھلی کچہری پہنچ گیا۔ بزرگ شہری نے اپنے چھوٹے بھائی کے خلاف جائیداد پر قبضے کی شکایت پیش کی۔

فیصل کامران نے ایس ایچ او سمن آباد لاہور کو سات دن کے اندر شہری کو انصاف فراہم کرنے کا حکم دیا۔

کھلی کچہری میں ڈی آئی جی آپریشنز نے شہریوں کی شکایات سن کر فوری احکامات جاری کیے۔ شہریوں نے کھلی کچہری کو فوری داد رسی اور مؤثر قانونی معاونت کا ذریعہ قرار دیا۔

فیصل کامران نے ہراسگی، گھریلو جھگڑوں اور دیگر سماجی مسائل پر فوری قانونی کارروائی کے احکامات دیے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور ہراسگی کے واقعات پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ایس ایچ اوز کو وراثتی تنازعات کے بروقت حل اور امن و امان برقرار رکھنے کی خصوصی ہدایات دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو انصاف، تحفظ اور بروقت قانونی رہنمائی فراہم کرنا لاہور پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔

فیصل کامران نے بتایا کہ وہ ہفتے میں چھ روز دوپہر ایک سے تین بجے تک کھلی کچہری میں عوامی مسائل خود سنتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شہریوں کی شکایات میں غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ افسران جوابدہ ہوں گے۔

Read in English

Author Profile

Staff Report
Staff Report
Emotion Map:
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
↑