اہم نکات:
- ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے باقاعدہ قرارداد میں جعلی پولیس مقابلوں کی مذمت کر دی۔
- ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی، سی سی ڈی اور ڈولفن فورس پر آئین سے باہر نکلنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
- بار کے مطابق عدالتی احکامات کی حکم عدولی روز ہو رہی ہے اور بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔
- قرارداد کے مطابق ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا آئینی حق حاصل ہے۔
- بار نے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
فیصل آباد: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے جعلی پولیس مقابلوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی، سی سی ڈی اور ڈولفن فورس آئین سے باہر نکل کر شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کر رہی ہیں۔
یہ مذمت بار کے صدر میاں طارق محمود ایڈووکیٹ اور سیکرٹری چوہدری کلیم اللہ گل ایڈووکیٹ کی طرف سے جاری مذمتی قرارداد میں کی گئی ہے، جس میں ملک میں قانون کی عملداری، عدالتی احکامات اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

قرارداد کے مطابق عدالتی احکامات کی حکم عدولی آئے روز کھلے عام ہو رہی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جعلی پولیس مقابلوں کے رحجان نے معاشرے کو ایک جنگل کے قانون میں بدل دیا ہے۔
قرارداد کے مطابق قانون کے نفاذ کی بجائے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ مختلف محکمے اور ادارے آئین اور قانون سے انحراف کرتے ہوئے بغیر کسی قانونی تحقیق کے من مانے قوانین نافذ کر رہے ہیں۔
جعلی پولیس مقابلوں کے رحجان نے معاشرے کو ایک جنگل کے قانون میں بدل دیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایلیٹ، سی ٹی ڈی، سی سی ڈی اور ڈولفن سمیت دیگر ادارے آئین کے دائرہ کار سے باہر نکل کر صرف قانون شکن اقدامات کر رہے ہیں۔
قرارداد کے مطابق ریاست میں قانون کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہر سطح پر آئین کے احکامات کی بالادستی ہونی چاہیے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے اور قانونی نظام اسی بنیاد پر چل سکتا ہے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد نے لاقانونیت کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آئین اور قانون پر عمل درآمد کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
Author Profile








