0

زراعت سے موبائل فون تک: پنجاب نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دے دی

مطالعے کا وقت: 1 منٹ

اہم نکات:

  • سنکیانگ کے سرمایہ کاروں کے 15 رکنی وفد کی صوبائی وزیر صنعت و تجارت سے ملاقات ہوئی۔
  • ویوو پنجاب میں چپ فریم اور موبائل فون بنانا شروع کرے گی، وزیر کا وفد سے خطاب۔
  • زراعت، سیڈ ڈویلپمنٹ، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا۔
  • رابطوں کو موثر بنانے کے لیے فوکل پرسنز مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

لاہور: چین کے صوبے سنکیانگ کے سرمایہ کاروں کے 15 رکنی وفد نے بدھ کو صوبائی وزیر صنعت و تجارت سے ملاقات کی اور پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی۔

سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق وفد کی قیادت سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور ڈپٹی کمانڈر ہا زینگیو کر رہے تھے۔ ملاقات سول سیکرٹریٹ میں ہوئی۔

ہینڈ آؤٹ کے مطابق سیکرٹری انڈسٹریز محمد عمر مسعود نے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بریفنگ دی۔ زراعت، سیڈ ڈویلپمنٹ، ٹیکسٹائل، صنعت، آبپاشی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای بزنس میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا اور فوکل پرسنز مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہواوے گروپ کے ساتھ جدید زراعت اور سیڈ ڈویلپمنٹ میں اشتراک موجود ہے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو پنجاب میں سپر سیڈرز، ہارویسٹرز اور دیگر زرعی مشینری کے کارخانے لگانے کی دعوت دی۔

چوہدری شافع حسین نے کہا کہ چین کی ویوو کمپنی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں چپ فریم اور موبائل فون بنانا شروع کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چین کے آٹھ دوروں میں طے پانے والے متعدد معاہدوں پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں ایگرو بیسڈ زون بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے زراعت کو صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔

ایم او یو کی بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں۔ فالو اپ سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہے۔

چوہدری شافع حسین نے کہا کہ ایم او یو کی بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں۔ فالو اپ سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی ہمارے لیے رول ماڈل ہے۔ چینی کمپنیوں کے ٹو ویلر الیکٹرک گاڑیوں کے یونٹ پنجاب میں پیداوار دے رہے ہیں اور لیتھیئم بیٹریوں کی چینی کمپنیاں بھی سرمایہ کاری کے لیے آ رہی ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ قائداعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں گارمنٹ سٹی بن چکی ہے اور وہاں فارما سوٹیکل ویلی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو بائیو ٹیکنالوجی اور ایگرو بیسڈ زون کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون کی دعوت دی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کی آسان کاروبار فنانس سکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو بے سود قرضے مل رہے ہیں۔ بڑی صنعتوں کے لیے بھی آسان قرضوں کا بڑا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے لاہور میں چینی قونصلیٹ کی کوششوں کو بھی سراہا۔

وفد کے سربراہ ہا زینگیو نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب زراعت کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ زراعت، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں اشتراک بڑھایا جائے گا۔

ہا زینگیو نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون جاری رہے گا۔ مزید چینی کمپنیوں کو پنجاب کے سازگار ماحول اور سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا جائے گا۔

سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق ملاقات میں سپیشل سیکرٹری انڈسٹریز نوشین ملک، ڈی جی پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ ڈاکٹر سہیل احمد، دیگر افسران، کور کے سینئر افسران اور چینی سفارت خانے کے اہلکار بھی موجود تھے۔

Read in English

Author Profile

Staff Report
Staff Report
Emotion Map:
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
↑