اہم نکات:
- پیچھے بیٹھنے والا ہیلمٹ کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا، حالانکہ حادثے میں وہ بھی اتنا ہی خطرے میں ہوتا ہے
- چند سو روپے کا ہیلمٹ عمر بھر کی معذوری اور اجڑے گھر سے بچا سکتا ہے
- پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس فیصل آباد ریجن کی مہم: دو سوار، دو ہیلمٹ، کیونکہ زندگی دونوں کی قیمتی ہے
ہمارے ہاں پیچھے بیٹھنے والے کا اٹل اصول ہے کہ ہیلمٹ صرف ڈرائیور کی ذمہ داری ہے، میں تو بس سوار ہوں۔ گویا کشتی ڈوبے تو غرق صرف کشتی بان ہوتا ہے، مسافر کنارے جا لگتا ہے۔
شاید حادثہ بھی پہلے پوچھ لیتا ہوگا کہ چلا کون رہا تھا؟ پیچھے والے کو چھوڑ دو، اس کا تو محض دو منٹ کا راستہ تھا۔
اس مسافر کے پاس دلیلوں کا پورا دفتر ہے۔ ہیلمٹ سے بال خراب ہو جاتے ہیں۔ سر میں گرمی لگتی ہے۔ یہ ٹوپی جیسی چیز لگتی ہے، لوگ کیا کہیں گے۔
لہٰذا ہیلمٹ کی اصل جگہ سر نہیں، ہاتھ ہے۔ یہ ہینڈل سے لٹکا ملے گا یا کہنی پر ٹنگا ہوا، جیسے سبزی کی تھیلی ہو۔
اور پھر وہ مشہور منظر بھی سب نے دیکھا ہے کہ سگنل پر ٹریفک وارڈن نظر آتے ہی ہیلمٹ فوراً سر پر آ جاتا ہے اور سگنل گزرتے ہی واپس ہاتھ میں اتر جاتا ہے۔
گویا ہیلمٹ سر کی حفاظت کے لیے نہیں، چالان سے حفاظت کے لیے ہے۔
افسوس کہ سڑک اس فلسفے کو نہیں مانتی۔ موٹر سائیکل کے حادثات میں سب سے زیادہ جانیں سر کی چوٹ سے جاتی ہیں اور ٹکر کی صورت میں پیچھے بیٹھنے والا اکثر ڈرائیور سے زیادہ دور جا گرتا ہے۔
رفتار کو اس سے غرض نہیں کہ آپ چلا رہے تھے یا بیٹھے تھے، اور زمین ہر گرتے ہوئے سے ایک جیسا سلوک کرتی ہے۔
اسی دو منٹ کی لاپرواہی کی قیمت بعض اوقات پوری زندگی سے ادا ہوتی ہے۔ ہسپتالوں کے چکر، مہینوں چارپائی سے لگ جانے والا کمانے والا، قرضوں میں ڈوبتا گھر اور دروازے پر انتظار کرتی ماں۔
ایک لمحے کی ضد نوجوان کو عمر بھر کی معذوری دے جاتی ہے اور پورے خاندان کی زندگی اجڑ جاتی ہے۔ کتنی ہی زندگیاں صرف اس لیے برباد ہو گئیں کہ کسی نے دو منٹ کے راستے کو ہیلمٹ کے قابل نہیں سمجھا۔
بال تو پھر بن جائیں گے، سر دوبارہ نہیں بنے گا۔
جبکہ بچت کا یہ سودا حیران کن حد تک سستا ہے۔ دو سیکنڈ میں سر پر آ جانے والی چند سو روپے کی چیز انسان کو بھی بچا سکتی ہے اور اس کے گھر والوں کی خوشیاں بھی۔
یہی چھوٹی سی عادت خوش حال گھر اور اجڑے گھر کے درمیان لکیر بن جاتی ہے۔
اسی لیے پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس فیصل آباد ریجن کی یہ آگاہی مہم قابلِ تحسین ہے۔ ایس پی محمد طارق ملک اور موبائل ایجوکیشن یونٹ کے اہلکار سڑکوں پر صرف چالان کاٹنے نہیں نکلے، شہریوں کو سمجھانے نکلے ہیں۔
ان کا سادہ سا پیغام ہے کہ دو سوار ہوں تو ہیلمٹ بھی دو ہوں گے، کیونکہ زندگی دونوں کی قیمتی ہے۔ دھوپ اور گرد میں سڑک پر کھڑا اہلکار دراصل آپ کے گھر والوں کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے۔

تو اگلی بار جب آپ کسی موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھیں تو ہیلمٹ ضرور پہنیں۔ بال تو پھر بن جائیں گے، سر دوبارہ نہیں بنے گا۔
آپ کے گھر پر انتظار کرنے والوں کو آپ کے بالوں کی ترتیب سے نہیں، آپ کی سلامتی سے محبت ہے۔ یاد رکھیے، دو سوار، دو ہیلمٹ اور دو قیمتی زندگیاں۔





